نئی دہلی:5/جولائی(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) کانگریس نے گجرات میں نوٹ بندی کے بعد 'ہزاروں کروڑ روپے کا بٹ کوائین گھوٹالہ کا الزام لگایا اور کہا کہ اس معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تفتیش ہونی چاہئے۔ پارٹی لیڈر شکتی سنگھ گوہل نے یہ بھی دعوی کیا کہ ا س اسکینڈل میں بی جے پی کے رہنماؤں کے ملوث ہونے کی بات سامنے آئی ہے، اس لئے اس میں سرکاری ایجنسیوں سے منصفانہ تفتیش کی توقع نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے چند ماہ قبل ایک شخص کی شکایت پر گجرات سی آئی ڈی کی طرف سے کی جا رہی تفتیش کے ایک معاملے کی تفصیلات سامنے رکھا اور الزام لگایا کہ 'بٹ کوائین جنریٹ کرکے کالے دھن کو سفید کرنے کا یہ گھوٹالہ بی جے پی حکومت کے آشیرباد سے چل رہا تھا۔ گوہل نے کہا کہ نوٹ بندی بی جے پی کے رہنماؤں کے لئے بہت بڑی لاٹری لے کر آئی۔گجرات سی آئی ڈی کا کہنا ہے کہ یہ بٹ کوائین گھوٹالہ 5000 ہزار کروڑ روپے کا ہے، لیکن کچھ اخبارات اور بلاگروں کا کہنا ہے کہ گھوٹالے کی رقم 88000 کروڑ روپے ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ بٹ کوائین رکھنے والے لوگوں سے سرکاری ایجنسیوں کا استعمال کرکے پیسے وصول کئے گئے۔بٹ کوائین رکھنا غیر قانونی ہے، اس وجہ سے بہت سے لوگوں نے شکایت بھی نہیں کی۔ ایک شخص نے شکایت کی جس کے بعد یہ پورا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کانگریس لیڈر نے یہ بھی دعوی کیا کہ اس پورے معاملے میں بی جے پی کے لوگوں کے ملوث ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے اور اس اسکینڈل کا ’ماسٹر مائنڈ‘ بی جے پی کا ایک رہنما ہے جو مفرور ہے۔گوہل نے سوال کیا کہ کرناٹک میں انتخابات کے دوران ہمارے رہنماؤں کے خلاف سی بی آئی اور ای ڈی کا استعمال کیا گیا، جب گجرات میں اتنا بڑا گھوٹالہ چل رہا تھا تب سی بی آئی اور ای ڈی کہاں تھی؟ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں اس اسکینڈل کی تفتیش ہونی چاہیے،سرکاری ایجنسیاں حکومت کے سازپر تھرک رہی ہیں۔